الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق کا لفظ کہہ کر انشاء اللہ آہستہ کہنا

سوال

زید کو چند آدمیوں نے پکڑ کر مار پیٹ کر اس سے ایک تحریری بیان لیا، کہ لکھو میں نے فلاں کو گالی دیا اور فلاں چیز چڑھایا ہوں، بیچارہ زید نے ڈر کی وجہ سے لکھ دیا، بیان کے آخر میں كلما کی قسم بھی لیا، کہو اگر یہ بیان جھوٹ ہو اور غلط ہو تو جب جب میں شادی کروں تو میری بیوی کو طلاق ہے، اور بیچارے زید کے علم میں ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے، لیکن اگر قسم سے انکار کرتا ہے، تو چاروں طرف سے ڈنڈے پڑتے ہیں، لہذا ڈر کر قسم کھا لیا قسم کے ساتھ آہستہ سے انشاء اللہ کہا کہ دوسرے شخص نے یہ اشارہ نہیں سنا ہے، صرف زید نے سنا ہے، تو دریافت…

جواب

جب اس نے آہستہ سے متصلاً انشاء اللہ کہہ لیا جس کو خود سن بھی لیا تو اس سے یمین نہیں ہوئی، اس کے خلاف کرنے سے حانث نہیں ہوگا: لو قال لها انت طالق انشاء الله متصلاً مسموعاً بحيث لو قرب شخص اذنه الى فمه يسمع لا يقع اه در مختار ۵۰۹، ولو الحالف مكرها او مخطئاً اوناسياً في اليمين او الحنث فيحنث بفعل المحلوف عليه مكرهاً اه (درمختار)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو