الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

یمین فور

سوال

شوہر نے بیوی کو مارا، بیوی غصہ میں پڑوسی کے گھر چلی گئی، اور گھر پر آنے کو تیار نہیں ہوئی، اس پر شوہر نے غصہ میں کہا کہ اگر تم باپ کے یہاں بھی گئی تو تم کو تینوں طلاق اور پھر ایک دوسرے کے لڑنے پر کہا کہ ہاں اگر باپ کے ڈیہ پر قدم رکھے تو تینوں طلاق، شوہر کا بیان ہے کہ میرا مطلب اس سے اس وقت تک کے لئے تھا کہ جب تم ابھی میرے گھر نہیں جاؤنگی، تو اس وقت باپ کے یہاں بھی نہیں جاسکتی ہو، اگر اس وقت چلی جاؤ گی تو تم کو تینوں طلاق، اب سوال یہ ہے کہ تعلیق طلاق جس کی تشریح شوہر کر رہا ہے، اس وقت کے لئے خاص ہوگی یا عام ہو گی،…

جواب

یہ یمین فور کا موقع ہے، اگر شوہر یہ کہتا ہے کہ میرا مقصد یہی تھا کہ غصہ اور ناراضگی کی وجہ سے میرے مکان سے نکل آئی، لہذا پہلے وہیں واپس چلو، اگر وہاں واپس چلنے سے پہلے باپ کے گھر گئی تو تینوں طلاق، تو شوہر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا، عورت کو چاہئے کہ پہلے شوہر کے مکان پر آجائے، پھر شوہر کی اجازت ورضا مندی سے حسب موقع والد کے مکان پر جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو