الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کو طلاق کی قسم دینا

سوال

زید اور اسکی بیوی میں کافی دنوں سے اختلاف ہے، ایک بار زید نے کہا کہ اگر تو کسی بھی رشتہ دار سے بات کریگی تو تجھے طلاق کی قسم، یہ لفظ تین مجلسوں میں تین بار کہا، اسکی بیوی برابر اپنے رشتہ داروں سے تعلق رکھتی ہے، اسکی بیوی نے پریشان ہو کر کہا کہ اگر تو مجھے نہیں رکھتا تو دو آدمیوں کو بلا کر میرا فیصلہ کر دے، اس پر زید نے کہا دو آدمیوں کی کیا ضرورت ہے، میں نے جو کہا وہ پکے ارادہ سے کہا ہے، یعنی طلاق کی جو قسم دی ہے، ایک مرتبہ بیوی کسی رشتہ دار سے لا کر کھانا کھا رہی تھی تو زید نے آکر مار پیٹ کی، اس پر بیوی نے گھر سے…

جواب

شوہر کے ان الفاظ سے کوئی طلاق نہیں ہوئی ہے مگر شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک، ملاطفت ومودت کا معاملہ کرنا ضروری ہے، مار پیٹ وغیرہ کا طریقہ نہیں اختیار کرنا چاہئے بیوی کو بھی لازم ہے کہ شوہر کا احترام، ادب، اطاعت، دلجوئی کرتی رہے، دونوں اس پر عمل کریں تو صحیح طریقہ پر گھر آباد ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو