الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مکان میں داخل ہونے کی قسم اور اس سے بچنے کا حیلہ

سوال

زید نے غصہ میں اپنے مکان میں جانے سے قسم کھائی اور کہا ہے اپنی بیوی کو کہ اگر میں اس مکان میں آؤں تو تجھ پر تین طلاق، صرف یہ الفاظ ایک دفعہ کہے ہیں، تین دن ہو گئے ہیں، زید اپنے مکان مسکونہ میں نہیں گیا ہے، لیکن زید اس مکان کا مالک نہیں ہے، پس سوال یہ ہے کہ زید اب اس مکان میں جانا چاہتا ہے، وہ اس مکان میں کس صورت سے جاسکتا ہے، کہ گنہ گار بھی نہ ہو اور طلاق بھی واجب نہ ہو۔

جواب

زید نے اشارہ کر کے متعین کر دیا کہ اس مکان میں آؤں تو تجھ پر تین طلاق اب وہ مکان خواہ زید کی ملک ہو یا نہ ہو، بہر صورت اس میں جانے سے اس کی بیوی پر تین طلاق واقع ہو جائیں گی، اور اب اگر اس میں جانا چاہتا ہے، تو اس کی صورت یہ ہے کہ زید خود نہ جائے بلکہ دوسرے لوگ اس کو اٹھا کر زبردستی مکان میں لے جائیں، اس صورت میں اس کی بیوی پر طلاق نہ ہوگی، اگر بغیر، اٹھائے خود اپنے پیروں سے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو