بیوی موجود نہیں پھر طلاق کی قسم کھائی
سوال
اگر زید نے یہ قسم کھائی کہ اگر آج سے میں یہ کام کروں تو جب تک میں ایک ہزار روپیہ غریبوں کو نہ تقسیم کروں، میری بیوی پر طلاق مگر کسی عذر کی بناء پر کرلوں تو اسکا کچھ اعتبار نہیں ہے، (یہ ہے زید کا قول) آپ فرمائیں اسکو کیا مجبور سمجھا جائیگا، یاوہ یہ کام کر لیا بغیر کسی عذر کے مگر اسکے پاس اتنی رقم نہیں کہ وہ تقسیم کرے (یعنی اسکی آمدنی نہیں)
جواب
اگر قسم کھاتے وقت زید کی بیوی موجود نہیں تو اس قسم کے خلاف کرنے سے کوئی طلاق نہیں ہوگی، خواہ قسم توڑنے کے بعد شادی کرے، یا پہلے کرے، اس کے بعد قسم توڑے، طلاق سے بالکل بے فکر رہے، البتہ اگر وہ کام گناہ کا ہے، تو اس سے ہر حال میں بچنا ضروری ہے، گناہ اگر ہو جائے تو توبہ واستغفار لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔