(اقرار نامه) / طلاق انشاء اللہ کا حکم
سوال
مظہر اور اس کی بیوی میں حالات ناسازگار ہوئے جس کی وجہ سے بیوی کے والدین نے مظہر کو طلاق دینے پر مجبور کیا، مگر تیار نہ ہوا، آخر میں مجبور ہو کر مظہر نے کہا کہ طلاق دیدوں گا، چنانچہ کچھ دنوں بعد مظہر نے بلانیت وارادہ طلاق چند اشخاص کے روبرو کہا کہ طلاق انشاء اللہ تعالی طلاق انشاء اللہ تعالی طلاق انشاء اللہ، اس واقعہ کے بعد ایک سال تک یہ معاملہ پنچایت میں پڑا رہا، جس میں اہل علم اور سرپنچ وغیرہ شامل ہوتے رہے اور یہ طے پایا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی، چنانچہ اس وقت سے وہ عورت آباد ہے، کیا از روئے شرع یہ ٹھیک ہے؟
جواب
ایسا کہنے سے طلاق نہیں ہوئی، دونوں میں نکاح بدستور قائم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔