الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

میں ہار گیا تو طلاق

سوال

دو شخص آپس میں کسی معاملہ میں بحث کرتے ہیں اور ہار جیت میں آپس میں دونوں شرط لگاتے ہیں کہ میں ہار گیا تو اپنی بیوی کو طلاق دیدوں گا، دوسرا بھی یہی کہتا ہے؟ اب اگر ان میں سے جو ہار جائے اسکی بیوی پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں، طلاق کیلئے یہ الفاظ کافی ہیں کہ نہیں؟ اور اگر یہ کہے کہ میں ہار گیا تو طلاق ہے، کیا اس صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی؟ کیا کسی مسلمان کو ایسی شرط لگانا جائز ہے؟ کیا یہ شرط ہی نافذ نہیں ہوتی؟ اس قسم کی شرط لگانے والے پر کفارہ کیا ہے؟

جواب

پہلی صورت میں طلاق محض اس شرط کے لگانے اور ہار جانے سے واقع نہیں ہوئی کہ یہ وعدہ طلاق ہے نہ کہ ایقاع طلاق سے دوسری صورت میں ہار جانے سے طلاق واقع ہو جائے گی: اذا اضافه الى شرط وقع عقيب الشرط ا ه هدایه مگر ایسی شرط لگانا شرعاً درست نہیں، طلاق کھیل نہیں، تین طلاق دینا گناہ ہے، تاہم اگر دیدے تو واقع ہو جاتی ہے، توبہ استغفار لازم ہے، کفارہ کچھ نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو