میرے کاروبار کیلئے روپیہ واپس نہیں تو اس کی خالہ زاد بہن جو میرے نکاح میں ہے اسکو تین طلاق
سوال
خالد نے ابوبکر کے پاس پانچ سو روپے بطور امانت رکھے، اور خالد پہلے سے ابوبکر کا قرض دار ہے، دوسرے لوگوں نے خالد کو بھڑکایا کہ ابو بکر تم کو روپیہ واپس نہیں دے گا، خالد نے قسم کھائی کہ اگر ابو بکر نے میرا روپیہ واپس کرنے میں رکاوٹ پیدا کی اور میرے کاروبار کرنے کے لئے روپیہ واپس نہیں دیا تو ابوبکر کی خالہ زاد بہن جو میرے نکاح میں ہے، اس کو تین طلاق، دریافت طلب امر یہ ہے کہ طلاق کب واقع ہوگی؟ اگر ابوبکر روپیہ دینے سے انکار کر دے اور کہہ دے کہ میں نے اپنے قرضہ میں رقم مجرا کر لی تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟
جواب
اگر ابو بکر نے وہ امانت والا روپیہ واپس نہیں کیا، بلکہ خالد کے طلب کرنے پر کاروبار میں رکاوٹ ڈالی خواہ کچھ روپیہ روک کر، خواہ کل روک کر، اور اس روپے کو اپنے قرض میں مجرا کر لیا تو حسب تعلیق خالد کی بیوی (ابوبکر کی خالہ زاد بہن) پر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی: واذا اضافه الى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقاً اه (عالمگیری ص: ۴۳۰، ج:۱)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔