اگر اولاد ہوئی تو تجھے طلاق تین بار کہنے کا حکم
سوال
زید اپنی بیوی کے پاس بغرض وطی حاضر ہوا تو اس کی بیوی نے صحبت کرنے سے انکار کر دیا، اس پر زید وہاں سے چلا آیا اور اپنی چار پائی پر لیٹ کر کہا کہ قسم خدا کی اگر اولاد ہوئی تو تجھے طلاق ہے، اور ان کلمات کو تین بار کہا، اب اولاد ہو چکی ہے، تو اس بیوی کو رکھنے کی کیا صورت ہوگی؟
جواب
في أيمان الفتح وقد عرف في الطلاق انه لو قال ان دخلت الدار فانت طالق ان دخلت الدار فانت طالق ان دخلت الدار فانت طالق وقع الثلاث یعنی بدخول واحد كما تدل عليه عبارة أيمان الفتح. عبارت بالا سے معلوم ہوا کہ ایک دفعہ بچہ پیدا ہونے سے تینوں طلاق واقع ہو کر حرمت مغلظہ ہوگئی، اب بغیر حلالہ کے اس سے تعلق زوجیت قائم کرنے کی کوئی صورت نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔