الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خفا ہو کر جانے پر طلاق کو معلق کرنا

سوال

ایک شخص اپنی منکوحہ بی بی سے جو مدخول بہا ہے، بایں طور کہا کہ جو عورت میرے سے روٹھ کر میرے گھر سے گئی تو وہ بیوی میرے پر طلاق ہے کچھ مدت گذرنے کے بعد بیوی تو دل میں خفا ہے، لیکن خاموش رہی اور خاوند نے یہ بات کہی کہ تو اپنے بیٹوں کے پاس جو کہ دوسرے گھر میں تھے جا کر دیکھ لے کہ انکی کیا حالت ہے، کیا اس صورت خاص میں طلاق رجعی پڑ جاتی ہے یا نہیں، نیز کچھ دنوں کے بعد یہ شخص اپنی بیوی مذکورہ کو کہتا ہے کہ اگر میں نے سنا کسی لڑکے کے ساتھ جو اسکے اپنے لڑکے ہیں کمائی کھاتی ہے، تو میری طرف سے طلاق ہے، اب بیوی نے اس پر یہ…

جواب

اگر پہلی شرط کے پائے جانے کا بیوی کو اقرار ہے، اور دوسری شرط کے پائے جانے کا شوہر کو اقرار ہے، تو صورت مسئولہ میں دو رجعی طلاقیں واقع ہو گئیں، بشرطیکہ دوسری شرط عدت کے اندر پائی گئی ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو