الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح پر طلاق کو معلق کرنا

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو یہ کہا کہ میں تجھ کو اتنا چاہتا ہوں کہ کسی دوسری عورت سے نہ تیری زندگی میں کوئی نکاح کروں گا، نہ تیرے مرنے کے بعد اور تیری زندگی میں کسی عورت سے اگر کوئی نکاح کروں تو تجھ پر تین طلاق کہ تجھ سے ہمیشہ کے لئے علیحدگی ہو جائے جسے میں برداشت نہ کر سکوں گا، پوچھنا یہ ہے کہ اگر وہ مرد عورت کی زندگی میں دوسرا نکاح بھی کر لے، اور پہلی عورت کو طلاق بھی نہ پڑے اور یہ مفت کی ایذاء عورت کو نہ پہنچے اس کی کیا صورت ہو۔

جواب

اگر پہلی عورت کی زندگی میں کسی عورت سے نکاح کرے گا تو پہلی عورت پر طلاق مغلظہ واقع ہو جائے گی، نکاح ثانی کی تدبیر یہ ہے کہ کوئی فضولی شخص بغیر اسکے امر اور بغیر وکالت کے از خود کسی عورت سے اس کا نکاح کر دے اور یہ خاموش رہے زبان سے کچھ نہ کہے جب وہ فضولی شخص ایجاب وقبول کر چکے تو یہ عملاً اس نکاح کو نافذ کر دے، مثلاً مہر (معجل)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو