الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بلا اجازت باپ کے گھر جانے سے طلاق کا حکم

سوال

میری عورت تقریباً چار مرتبہ میری بلا اجازت رائے ومشورے کے اپنے مکان یعنی کانپور سے لکھنو جا چکی ہے، ہر مرتبہ دس پندرہ یوم کے بعد میرے ہمراہ جبراً انکے والدین کہہ سن کے بھیج دیا کرتے ہیں اور ہر مرتبہ میری بلا اجازت جملہ سامان بھی اپنے ہمراہ لیجاتی ہیں، اس مرتبہ پھر میری عورت بغیر مجھ سے پوچھے مع بچوں اور جملہ سامان کے پوشیدہ طور پر اپنے مکان چلی گئیں لہذا ایسی حالت میں عورت کا شوہر سے نکاح باقی رہا یا نہیں اور مہر ادا کرنا اسکے اوپر واجب ہوا یا نہیں میں نے انکو پہلی ہی مرتبہ متعدد مردوں اور عورتوں کے رو برو خوب…

جواب

مهر تو یقیناً واجب ہے بوقت عقد نکاح جو وقت اس کی ادائیگی کا مقرر ہو چکا ہے، اس وقت پر ادا کرنا ضروری ہے، اگر وقت کا تقرر نہیں ہوا تو جو طریقہ آپ کے خاندان میں جاری ہے، اس طریقہ کے موافق اداء کرنا لازم ہے، اگر زوجہ معاف کر دے تو معاف ہو جائے گا، اور اگر نہ وقت کا تقرر ہوا نہ عورت نے معاف کیا نہ خاندان میں ادا کرنے کا رواج ہے، تو ایسی صورت میں بھی اس کا ادا کرنا ضروری ہوگا یا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو