اگر مکان نہ جلاؤں تو طلاق مغلظہ
سوال
زید نے اپنے بھائی کے ساتھ جھگڑا کر کے کہا کہ تم اپنا گھر میرے مکان کی چھت کا پانی جہاں گرتا ہے، مکان کی دکھن جانب سے ساڑھے نو ہاتھ (پونے پانچ گز) چھوڑ کر اگر نہ بناؤ تو قسم خدا کی میں اس مکان کو جلا دوں گا، اسپرٹ گھر میں ہے، اس نے کہا میں بناؤں گا، میں نے کہا قسم خدا کی میں جلا دوں گا، پھر وہ دوبارہ بنالے گا، لہذا اس خیال سے میں نے کہا قسم خدا کی تو جتنی بار بنائے گا، اتنی مرتبہ جلاؤں گا، اگر نہ جلاؤں تو میری عورت پر طلاق مغلظہ، جب جب شادی کروں گا، تب تب طلاق مغلظہ۔
جواب
اسلم صورت یہ ہے کہ زید کا بھائی وہاں سے ساڑھے نو ہاتھ جگہ چھوڑ کر مکان بنالے، اگر زید نے اپنا وہ مکان فروخت کر دیا تب بھی قسم سے نجات مل جائیگی، نیز زید نے یہ نہیں کہا کہ جب وہاں مکان بناؤ گے فوراً جلا دوں گا، لہذا اس میں توسیع ہے، زندگی میں کسی وقت اس پر عمل کرنے سے بر فی الیمین ہو جائیگا، یعنی قسم پوری ہو جائیگی، ورنہ آخیر حیات میں جب کہ بھائی کے مقررہ جگہ میں مکان بنا لینے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔