تعلیق طلاق مع فتوی دیو بند
سوال
مندرجہ ذیل استفتاء دیوبند اور سہارن پور روانہ کیا گیا تھا، دونوں جوابوں میں اختلاف ہے، سوال مع جواب ہر دو، دونوں بمہر روانہ ہیں بحوالہ تحریر فرمائیں کہ آپ کا جواب ٹھیک ہے، یا دوسرا، اس مرتبہ نقل اقرار نامہ بھی روانہ ہے۔ استفتاء: کیا حکم دیتے ہیں علمائے شریعت اس مسئلہ میں کہ میں نے ایک اقرار نامہ پنچوں کے سامنے تحریر کیا تھا، کہ جو رقم میرے پاس ہے عرصہ پندرہ روز کے اندر اپنے پنچ برادران کے سامنے عبد القادر پدر زوجہ کو روانہ کردوں گا، اگر وقت مقررہ یعنی دو ہفتہ کے اندر نہ دوں تو میری عقد سے خارج ہو کر مطلقہ سمجھی…
جواب
جب کہ مدت مذکورہ میں رقم نہیں دی تو شرط کے موافق طلاق واقع ہو گئی محض رقم لے کر جانے اور پنچوں کو تلاش کرنے سے اقرارنامہ پر عمل نہیں ہوا اگر رقم حسب قرارداد حوالہ کر دی جاتی تو طلاق واقع نہ ہوتی: اذا اضافه الى شرط وقع عقيب الشرط الخ (هدايه)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔