الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اگر میری اسکے ساتھ شادی نہ ہوئی اور اسکے علاوہ کسی دوسری سے ہوئی تو اس دوسری کو دو طلاق

سوال

اگر زید نے یہ کہا کہ اگر میری اس کے ساتھ شادی نہ ہوئی اور اس کے علاوہ کسی دوسری سے ہوئی تو اس دوسری کو دو طلاق اور اس کے بعد اس نے ایک قسم کھائی صرف اس میں طلاق کا ذکر تھا اور وہ حانث ہو گیا، تو ایسی صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوں گی اور اس میں جب جب کی قید موجود نہیں تھی، اگر تین طلاق پڑیں تو طلاق مغلظہ ہوگی، ایسی صورت میں اگر غیر کفو میں نکاح کیا تو قسم ادا ہوگی یا نہیں، بغیر وارث کی اجازت کے، مثلاً لڑکی بالغ مطلقہ ہے تو اس سے نکاح درست ہے، یا نہیں؟

جواب

اگر اس عورت سے عمر بھر شادی نہ ہوئی اور اس دوسری عورت سے ہو گئی تب دوسری عورت پر طلاق ہوگی، ورنہ جب تک شادی کا امکان ہے، دوسری عورت پر شادی کرنے سے طلاق نہیں ہوگی قسم پوری ہونے کیلئے کفو کا ہونا شرط نہیں، نکاح میں جیسی طلاق (ایک یا دو یا مغلظہ) کو معلق کیا جائے تحقق شرط کے بعد ویسی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو