منکوحہ اگر کہلائے کہ میں اس کے پاس جانا نہیں چاہتی تو طلاق ہے
سوال
زید اپنی بیوی کو مار پیٹ کرتا رہا، ایک دن چھ آدمیوں کے سامنے کہا کہ میری بیوی مجھے مہر کا دعویٰ لکھ دے تو میں طلاق لکھ دوں گا، بلکہ اس کو رکھنا نہیں چاہتا، پھر کہا کہ منکوحہ اگر کہلائے کہ میں اس کے پاس جانا نہیں چاہتی تو طلاق ہے، دو مسلمانوں کے سامنے لڑکی نے اس کے پاس جانے کو بالکل منع کر دیا، اس پر وہ چلا گیا، تو منکوحہ کو اپنی شادی دوسری کب اور کس صورت کے بعد کرنی چاہئیے اگر منکوحہ اس پر مہر کا دعوی نہ کرے تو اس کی علیحدگی ہوگی یا نہیں؟
جواب
اگر شوہر نے یہ کہا تھا کہ اس کی منکوحہ اگر یہ کہہ دے کہ میں اسکے پاس جانا نہیں چاہتی تو طلاق ہے، اور اسکے جواب میں اسکی منکوحہ نے یہ کہا کہ میری طرف سے کہہ دو کہ میں اس کے پاس جانا نہیں چاہتی تو ایک طلاق رجعی اسکے کہنے کے بعد تین ماہواری گزرنے پر دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت ہے، اگر یہ صورت پیش نہیں آئی، شوہر نے اس طرح کہا تھا کہ طلاق لکھ دوں گا، یا طلاق دیدوں گا، پھر اس نے نہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔