اگر دونوں چھت پر آئی تو دونوں کو تینوں طلاق
سوال
ابوبکر کی بیوی زاہدہ خاتون ہے، ابو بکر زاہدہ کو بہت چاہتا ہے، ابوبکر نے زاہدہ سے کہا میری دو بات ہمیشہ یاد رکھنا، (۱) نماز کی ہمیشہ پابند رہنا ورنہ میں تم کو طلاق دیدوں گا، (۲) دوسری یہ کہ میری پہلی بیوی تم سے عمر میں بڑی ہے کبھی اس سے جھگڑنا نہیں، ورنہ میں تم کو طلاق دیدوں گا، زاہدہ خاتون بیحد نماز کی پابند ہوگئی، اور لڑائی جھگڑے سے دور رہنے لگی، ایک روز زاہدہ ابوبکر کی بڑی بیوی سے جھگڑ گئی، ابوبکر اپنی چھت پر سویا ہوا تھا، لڑائی کی آواز ابوبکر کے کان میں گئی، ابو بکر نے اپنی دونوں بیویوں کو چھت پر بلوایا اور…
جواب
چھت پر جانے سے ان پر طلاق ہو جائے گی، چاہے کل کو جائیں یا اس کے بعد جائیں، اگر اس طرح کہتا ہے کہ اگر آج رات تم دونوں چھت پر آئیں تو تم دونوں کو تین طلاق، پھر رات گزرنے کے بعد جاتیں تو طلاق نہ ہوتی، لیکن اس طرح نہیں کہا، اب تو حکم یہ ہے کہ جب بھی چھت پر جائیں گی تو تین طلاق واقع ہو جائیں گی اگر کوئی شخص ایک روز کے لئے طلاق دیدے تو وہ ہمیشہ کے لئے ہو جاتی ہے لیکن طلاق کے لئے شرط…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔