تعلق زوجیت نہیں“ سے طلاق کا حکم
سوال
عبداللہ نے ایک نابالغ لڑکی فاطمہ سے بغیر اب وجد کے دوسرے ولی کے ذریعہ سے نکاح کر لیا تھا، وہ لڑکی بالغ ہونے کے بعد شوہر کی عادات واخلاق پسند نہ ہونے کی وجہ سے اپنی والدہ صاحبہ کے گھر آگئی، تقریباً دو ہفتہ کے بعد عبد اللہ نے فاطمہ کو بلایا اس وقت فاطمہ بولی کہ تمہارے اخلاق وعادات مجھے پسند نہیں ہیں، میں تمہارے ہمراہ رہنے کو راضی نہیں ہوں، اس لئے مجھے طلاق دیدو، عبد اللہ نے کہا جس طرح تو مجھے پسند نہیں کرتی میں بھی تجھے اسی طرح پسند نہیں کروں گا تم اپنی اماں کے گھر رہو، میں دوسری شادی کر لیتا ہوں، فاطمہ بولی بہر حال…
جواب
نابالغہ کا نکاح جب کہ ولی ابعد نے کیا تھا، تو وہ ولی اقرب کی اجازت پر موقوف تھا، اگر ولی اقرب نے رد کر دیا تھا، تو وہ رد ہو گیا تھا، اگر رد نہیں کیا تھا، بلکہ اجازت دیدی تھی تو وہ جائز ہو گیا تھا۔ جبکہ عبداللہ نے سوال طلاق کے جواب میں کہا کہ تم اپنی ماں کے گھر پر رہو، آج سے تمہارے اور میرے درمیان میں زوج وزوجہ کا کوئی علاقہ نہیں ہے، تو بظاہر ہے کہ یہ بہ نیت طلاق ہی کہا ہے، تو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔