الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہم سے کوئی تعلق نہیں جہاں چاہے جا، سے طلاق

سوال

ایک شخص مسمی رسول میاں ولد ظہور میاں اپنی عورت مسماۃ نظیراً کو اپنے مکان سے غریب میاں چودھری رحیم بخش وغیرہم گواہان کے سامنے اس کا سارا زیور نکال کر اس کے میکے کر آیا اور کہلایا کہ ہم سے اس سے کوئی مطلب نہیں اس کی طبیعت جہاں چاہے جائے، ہم سے اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، عرصہ دارز ہوا کہ مسمی مذکور نے اپنی دوسری شادی کر لی اب یہ مسماۃ اس سے طلاق چاہتی ہے، کہ باقاعدہ ہم کو چھوڑ دو وہ کہتا ہے کہ چھوڑ تو دیا ہے تجھ کو ہم نہیں رکھیں گے، جہاں طبیعت چاہے چلی جاؤ، جس کو ہم نے نکال دیا ہے اس کو پھر نہیں رکھ سکتے۔ فقط

جواب

الفاظ مذکورہ کنایات طلاق سے ہیں، پس اگر ان الفاظ سے طلاق کی نیت کی ہے تو طلاق بائن واقع ہوگئی، وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية ولو قال لها اذهبى اى طريق شئت لا يقع بدون النية وان كان في حال مذاكرة الطلاق (عالمگیری ص: ۲۹۴، ج: ۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو