لفظ میں نے الگ کر دی“سے طلاق
سوال
ہندہ کا نکاح محمد احمد سے ہوا، مگر جب وہ نالائق نکلا تو محمد احمد پر طلاق کے لئے زور دیا گیا، جب اس کو سختی سے کہا گیا تو اس نے کہا کہ میں نے آپ کے کہنے سے اس کو الگ کر دی، میں اپنے گھر چلا جاؤں گا، چلتے وقت اُس نے کہا کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے، یہ زبردستی ہے تو اس طرح طلاق ہوگی یا نہیں؟
جواب
محمد احمد نے جو الفاظ کہے ہیں کہ میں نے آپ کے کہنے سے اس کو الگ کر دی، اگر یہ بہ نیت طلاق کہے ہیں تو طلاق بائن واقع ہو گئی، اگر طرفین رضا مند ہوں تو دوبارہ نکاح بھی درست ہو سکتا ہے، اگر بہ نیت طلاق نہیں کہے تو طلاق نہیں ہوئی بدستور نکاح قائم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔