الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

میرا تیرا تعلق ختم“سے طلاق

سوال

زید کا نکاح ہندہ سے ہوا، ہندہ نے اپنی سسرال کا ماحول نہایت گندہ دیکھا، ہندہ کی سسرال میں پردہ گھونگھٹ اور شرم وحیاء کا طریقہ بالکل پسند نہیں، اور اسلامی طور وطریق کو بہت ہی کراہت سے دیکھتے ہیں، نیز ہندہ کے شوہر اور ساس سسر ہندہ کو کھلی بے حیائی، بے شرمی اور بے پردگی پر آمادہ کرتے ہیں، بے شرمی اور بے حیائی کے ساتھ ساتھ ہندہ سے ازدواجی تعلقات کی تاک جھانک میں لگے رہتے ہیں، جب ہندہ اپنے شوہر ساس سسر کی اس کھلی بے حیائی اور بے شرمی کا ذکر کرتی ہے، تو وہ ان باتوں پر بالکل برا نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ ہمارے بابوجی…

جواب

اگر ہندہ کو اس کے شوہر نے بہ نیت طلاق یہ کہا کہ جا آج سے میرا تیرا تعلق ختم، جیسا کہ مہر بھیجنے کے ذکر سے بھی معلوم ہوتا ہے تو ایک طلاق بائن واقع ہو گئی ہے وقت طلاق سے تین حیض گذرنے پر دوسری جگہ نکاح کی اجازت ہوگی اگر حمل ہو تو وضع حمل سے عدت پوری ہو جائے گی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو