الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لفظ حرام سے طلاق

سوال

ایک شخص نے اپنی زوجہ کو کسی خانگی معاملات کی تکرار پر غصہ کی حالت میں یوں کہہ دیا کہ تو مجھ پر حرام ہے، اور میرے گھر سے نکل جاؤ اپنے باپ کے یہاں چلی جاؤ اس کے بعد زوجہ مذکورہ دو ماہ شوہر کے پاس رہی اور صحبت بھی بدستور سابقہ ہوتی رہی، دو ماہ بعد زوجہ مذکورہ برضا مندی شوہر اپنے باپ کے یہاں پہنچی اس نے یہ واقعہ تکرار مع ان الفاظ کے جو اوپر تحریر ہے اپنے والدین سے بیان کیا یہ سن کر والدین نے لڑکی کو شوہر کے ہمراہ اب تک نہیں بھیجا اور کہتے ہیں طلاق پڑ گئی، اس تکرار کو جو شوہر سے ہوئی تھی، پانچ ماہ ہو گئے۔

جواب

صورت مسئولہ میں ایک طلاق پڑ گئی، اور وہ بائن پڑی اس کا حکم یہ ہے کہ اگر طرفین رضامند ہوں تو دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے: وان كان الحرام فی الاصل كناية يقع بها البائن لانه لما غلب استعماله في الطلاق لم يبق كناية ولذا لم يتوقف على النية اودلالة الحال الخ (شامي ص: ۷۱۷، ج: ۲) والبائن يلحق الصريح لا البائن. (تنوير)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو