الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تکرار طلاق به نیت تاکید

سوال

زید نے اپنی بیوی ہندہ کو جھگڑے اور لڑائی کے درمیان طلاق دی، لفظ طلاق کو بار بار اس نے دہرایا، زید کہتا ہے کہ لفظ طلاق کہنے کے وقت جب دوبارہ وسہ بارہ میں نے لفظ طلاق استعمال کیا تو میری نیت لفظ طلاق کی تکرار کی تھی، بصورت تاکید میں نے اس لفظ کو دہرایا تھا، مستقل تین طلاقوں کے ایقاع کی نیت نہیں تھی، اس طرح تین طلاق کا تین بار کا عدد پورا ہو گیا، مقصود اس کو اس سے ڈرانا تھا اور ان کے ورثاء کو دھمکانا تھا، اب ایسی صورت میں جب کہ لفظ طلاق ایک دفعہ میں نے طلاق کی نیت سے استعمال کیا اور اس کے بعد تاکید کی نیت سے استعمال…

جواب

شوہر نے لفظ طلاق ایک دفعہ کہنے کے بعد اگر بار بار محض تاکید کی نیت سے دہرایا ہے اور خالی الذہن تھا، اور جدید طلاق کی نیت نہ کی تو دیانہ ایک ہی طلاق ہوئی ہے لیکن اگر عورت نے خود تین طلاق کو شوہر سے سنا ہے، تو اب اس کیلئے جائز نہیں کہ اس شوہر کو اپنے اوپر قابو دے بلکہ اس سے علیحدہ رہنے کیلئے ہر ممکن تدبیر کو اختیار کرنا ضروری ہے، خواہ مہر معاف کر کے چھٹکارا حاصل کرے یا کسی اور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو