گالی کے طور پر سات بار طلاقن کہنا
سوال
زید کی اس کی گھر والی سے ناراضگی چل رہی تھی، گھر والی کھانے کیلئے کہنے کے واسطے سامنے آئی تو زید نے گھر والی سے کہا کہ ہٹ جا سامنے سے سات طلاقن، اس لفظ سے زید کی نیت گالی دینے کی تھی طلاق دینا نہیں تھی، اس صورت میں کیا حکم ہے؟
جواب
اگر اس کی بیوی کو پہلے طلاق نہیں دی گئی تھی، اب یہ شخص خود اسکو طلاقن کہہ رہا ہے، تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوگئی، اور سات طلاقن کہنے سے طلاق مغلظہ ہوگئی، گالی کی نیت قضاء معتبر نہیں:
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔