تین طلاق کا حکم جب کہ زوجہ کو خطاب نہ ہو
سوال
زید باہر سے اپنے مکان میں آیا اور اپنی زوجہ سے ہم کلام ہوا، جس کا جواب اس کی زوجہ نے تلخ گوئی سے دیا، زید گھر میں آکر پلنگ پر لیٹ گیا اور اس کی زوجہ اسی طرح بد زبانی کرتی رہی، زید کی طلاق دینے کی نیت پہلے سے ہرگز نہ تھی، یکا یک زید کو اپنی زوجہ کی بد زبانی پر غصہ آگیا، وہ لیٹے سے بیٹھا ہو گیا، اور اپنی زوجہ کی طرف متوجہ ہو کر کہا، تین طلاق تین طلاق تین طلاق۔ اب سوال یہ ہے کہ زید کی زوجہ پر طلاق واقع ہوگئی یا نہیں، اور اگر واقع ہو گئی تو کس قسم کی اور زید کی زوجہ اسکے نکاح سے باہر ہوگئی یا نہیں۔
جواب
صریح الفاظ سے طلاق واقع ہونے کیلئے نیت کی حاجت نہیں، بلانیت ہی طلاق ہو جاتی ہے البتہ زوجہ کی طرف خطاب نام، اشارہ وغیرہ سے طلاق کی نسبت ضروری ہوتی ہے، پس ظاہر یہ ہے کہ زید نے اپنی زوجہ ہی کو طلاق دی ہے، گو صراحت اسکی طرف نسبت نہیں کی لیکن زوجہ کی بد زبانی پر اور اس کی طرف متوجہ ہو کر تین طلاق دینا اس کا قرینہ ہے، کہ اپنی زوجہ ہی کو طلاق دی ہے، لہذا طلاق مغلظہ ہو گئی، اب بغیر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔