غیر مقلد ہونے سے حرمت مغلظہ ختم نہیں ہوتی
سوال
سید فضل الہی نے اپنی زوجہ مسماۃ آسیہ خاتون کو طلاق طلاق طلاق اس طرح نوبار طلاق دے دیا ہے، اور پھر اس کا اقرار دوسری مجلس میں بھی ایک مدت تک کرتا رہا ہے، بعد ازاں علماء سے استفتاء کیا، بتلایا گیا کہ اب دوبارہ عقد بغیر حلالہ کے جائز نہیں ہے، اس لئے سید فضل الہی نے کہا کہ میں مذہب حنفی چھوڑ کر غیر مقلد ہوتا ہوں، چند آدمیوں کو لے کر نکاح ثانی کر لیا ہے، صورت مذکورہ میں شرعی حکم نیز شرکاء عقد کا حکم مدلل بیان فرمادیں۔ بینوا وتوجروا۔
جواب
تین طلاق کے بعد حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی، بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح کی ہرگز اجازت نہیں ہے قرآن کریم، حدیث شریف، اجماع امت اور سلف سے یہ ثابت ہے، ائمہ اربعہ کا اسپر اتفاق ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ کی تقلید کرتے ہوئے جب وہ عورت اسپر حرام ہوگئی، اور یہ حرمت اجماعی قطعی ہے، تو اب اگر وہ شخص تقلید چھوڑ بھی دے اور ایک عورت کی خاطر غیر مقلد ہو جائے تب بھی وہ حرمت سابقہ ختم نہیں ہوگی یہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔