الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تکرار طلاق بنیت تاکید

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی، اور پھر عدت کے اندر رجوع کر لیا، تقریباً آٹھ ماہ کے بعد پھر کسی وجہ سے دوسری طلاق دینا چاہی لیکن اس مرتبہ اس نے تین طلاق دیدی اور نیت بالکل یہی رکھی کہ ایک طلاق دیتا ہوں اور باقی طلاقیں اسی ایک طلاق کی مضبوطی اور تاکید کے لئے، تو یہ طلاق رجعی ہے، یا بائن یا مغلظہ اور زوج اول کی طرف رجعت کیلئے کیا صورت ممکن ہے، زوج اول سے بغیر نکاح کے رجوع ہو سکتا ہے، یا نہیں، یا عدت کے اندر رجوع کر کے رجوع کرنا پڑے گا، اور کیا زوج ثانی سے تو نکاح تو نہ کرنا پڑے گا۔

جواب

شوہر کو صرف تین طلاق کا اختیار ہوتا ہے، پہلی طلاق دے کر رجعت کرنے کے بعد تین طلاق کا اختیار نہیں رہا تھا، صرف دو طلاق کا اختیار رہ گیا تھا، جب دوبارہ تین طلاق دیں تو ان میں سے دو واقع ہو کر مغلظہ ہوگئی اور تیسری جو کہ دراصل چوتھی ہے، بیکار گئی اور شوہر کی یہ نیت کہ ایک طلاق دیتا ہوں، باقی طلاقیں اسی ایک طلاق کی مضبوطی کیلئے ہیں، قضاء معتبر نہیں، البتہ دیانہ اس کی نیت کا اعتبار…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو