جس نام سے بیوی مشہور ہو اس نام سے طلاق دینا
سوال
میں نے اپنی منکوحہ بیوی وحید النساء کو غصہ کی حالت میں یہ جملہ کہہ کر طلاق دیا کہ عبدل کی لڑکی میرا نام کو میں نے طلاق دیا تین بار کہا دس منٹ کے بعد پھر اسی غصہ میں پھر تین بار اسی جملہ کو کہہ دیا، شادی کے وقت قاضی نے وحید النساء ولد عبدل کہہ کر نکاح پڑھایا تھا، مگر ہمارے گھر میں میرا کے نام سے مشہور ہے، میکہ میں میرا کے نام سے مشہور ہے، تو طلاق میں نے میرا کے نام سے دیا، اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
جواب
جب وہ میرا نام سے آپکے یہاں مشہور ہے اور اسی نام سے آپ نے تین طلاق دی ہے، تو بلا شبہ طلاق مغلظہ ہوگئی ہے اب بغیر حلالہ کے تعلق زوجیت رکھنا حرام ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔