تین طلاق کے بعد کسی دوسرے مذہب پر عمل کرنا
سوال
زید نے ایک دن صبح سویرے معمولی بات پر اپنی بیوی ہندہ سے غصہ میں کہہ دیا کہ جب مجھ سے جھگڑتی رہتی ہے تو تم طلاق طلاق طلاق، تم تم کے بعد اس کو استعمال نہیں کیا، جب اس مسئلہ کو بعض حنفی عالم کے سامنے بطور استفتاء رکھا گیا تو جواب ملا کہ زید کی بیوی پر تین طلاق واقع ہوئی ہے، اور بغیر حلالہ زید پر وہ حرام ہے، حلالہ کا نام سن کر زید کی مطلقہ کہنے لگی، کہ میں شوہر کے گھر سے ہرگز نہ نکلوں گی، اگر نکال دیا گیا تو خودکشی کرلوں گی، عورت کی اس دھمکی کے بعد ثانیاً اس حنفی عالم سے رجوع کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ضرورت شدیدہ کے…
جواب
طلاق مغلظہ واقع ہوگئی، لفظ” تم“کے بعد” کو ذکر نہ کرنے سے کچھ نہیں ہوتا: وفی انت الطلاق او طلاق او انت طلاق الطلاق او انتِ طلاق طلاقاً تقع واحدة رجعية ومتی کرر لفظ الطلاق وقع الكل (درمختار) وقال الله تعالى الطلاق مرتلان الى قوله فان طلقها فلا تحل له من بعد تنكح زوجاً غيره (الآية)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔