جھوٹی تحریر پر دستخط سے طلاق نہ ہوگی
سوال
میرے ایک عزیز حاجی نیاز احمد کے پاس ضلع بستی میں کافی زمین ہے، ان کی بیوی زینب کو ضلع گونڈہ میں سوا سو بیگہ ان کے والد مرحوم نے دیا تھا، گورنمنٹ نے دونوں زمینوں کو یکجا کر دیا ہے، شیلنگ کا مقدمہ شروع ہے، زمین زیادہ نکل رہی تھی، وکلاء نے ان کو رائے دی کہ آپ ایک تحریر پیش کر دیں کہ میں نے زینب کو طلاق دے دی ہے، ان کی جانب سے وکیل نے ایک تحریر لکھی ہے اور حاجی نیاز احمد سے دستخط لیا، نہ انہوں نے زبان سے طلاق دیا، نہ طلاق دینے کی نیت تھی، ایسی صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
جواب
ایسی جھوٹی تحریر یا خبر سے دیانتہ طلاق نہیں ہوئی، اگر پہلے گواہ بنالیا تھا کہ میں جھوٹی تحریر پر دستخط کرتا ہوں، نہ میں نے طلاق دی نہ دے رہا ہوں، تو قضاء بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔