خسر کو دھمکانے کیلئے طلاق نامہ اور اسمیں خسر کی دوسری لڑکی مراد لینا
سوال
کرم علی کو اپنی بیوی سے انتہائی محبت ہے، اور اس کی بیوی بھی اپنے شوہر کو پیار کرتی ہے، دونوں اسی طرح ایک عرصہ سے میل ومحبت کے دن گزارتے رہے، اور آپس میں کبھی کوئی اختلاف اور جھگڑا نہیں ہوا، اور کرم علی نے اس کو کبھی طلاق دینے کا اور جدا ہونے کا ارادہ نہیں کیا، مگر کرم علی کے لئے یہ بات ہمیشہ تکلیف دہ رہی کہ بیوی جب میکہ چلی جاتی ہے، تو سسرال والے واپس کرنے میں ہمیشہ ٹال مٹول کرتے ہیں، ایک مرتبہ وہ خود لینے گیا تو ٹال مٹول کی اور کہا کہ بعد میں رخصت کرینگے پھر ماں کو بھیجا وہ اپنے ساتھ جا کر لائی تو بات ختم ہو گئی،…
جواب
طلاق اپنی بیوی کو دی جایا کرتی ہے غیر کو نہیں، جب کہ یہاں مقصود اپنے سسرال والوں کو پریشان کرنا ہے، تو انکی پریشانی اس صورت سے ہوسکتی ہے کہ ان کی لڑکی کو طلاق ہو جائے، اس سے، کوئی پریشانی نہ ہوگی کہ انکی لڑکی کو طلاق نہ ہو، اس لئے صورت مسئولہ میں طلاق مغلظہ کا حکم کیا جائے گا، اگر خسر کے کوئی دوسری لڑکی موجود ہے، تو وہ اس شخص کی بیوی نہیں، اسکو مراد لینا غلط ہے، پھر زبان سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔