جب شوہر کو شرط نامے کا علم نہ ہو اس سے طلاق نہیں ہوتی
سوال
محمد سعید کے خسر نے عقدِ ثانی کے وقت محمد سعید سے اس شرط نامہ پر انگوٹھا کا نشان لیکر محمد سعید نے اپنی پہلی بیوی کو دو گواہوں کے سامنے تین طلاق دیا اور یہ بات طے پائی کہ بی بی میمونه خاتون (زوجہ ثانیہ) جب تک زندہ رہے گی اگر میں دوسری شادی کروں تو تین طلاق ہوگی، یا پڑیگی عقد کرایا تھا محمد سعید ان پڑھ کو اس شرط نامہ کا علم نہیں ہوا، اسنے صرف طلاق نامہ سمجھ کر انگوٹھا لگا یا تھا، حالانکہ ایک ہی کاغذ میں طلاق نامہ اور شرط نامہ ہے جس میں محمد سعید نے انگوٹھا لگایا تھا، مدتوں بعد جب محمد سعید نے تیسری شادی کی تو قاضی…
جواب
جب کہ محمد سعید کو شرط نامہ کا علم ہی نہیں، تو اس کے ذمہ کوئی پابندی نہیں، پس اس کی وجہ سے موجودہ بیوی پر طلاق نہیں ہوگی، کل کتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق مالم يُقرّ انه كتابه اهـ رد المحتار ج: ۲، ص: ۴۲۹، اسکے بعد پھر اس بحث کی ضرورت نہیں رہتی، کہ اگر اس شرط کا علم ہوتا تو کیا حکم ہوتا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔