الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پر چہ پر تین طلاق لکھ کر جلا دیا یا پھاڑ دیا

سوال

زید کی لڑائی والدہ سے ہوئی، جس کی وجہ سے زید نے ایک کاغذ پر تین مرتبہ طلاق لکھ کر اپنی ماں کو دیا، ماں نے اس کو جلتے ہوئے چولھے میں ڈال دیا، مہینے دو مہینے کے بعد زید نے کانپور سے فتویٰ منگایا کہ میں ایک کاغذ پر تین دفعہ اپنی بیوی کے بارے میں طلاق لکھ چکا ہوں، اس عبارت کا جواب کانپور سے ملا کہ طلاق ہو چکی ہے، زید کے خسر کو جب معلوم ہوا تو وہ لڑکی کو لینے کیلئے آئے، تب زید نے اپنے خسر صاحب سے دو آدمیوں کے سامنے کہا کہ ابا جان مجھ سے غلطی ہو گئی ہے، میں طلاق دے چکا ہوں، مگر میں سوچ رہا ہوں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا، زید…

جواب

زید کا یہ اقرار ہے کہ ابا جان مجھ سے غلطی ہو گئی ہے، میں طلاق دے چکا ہوں، اس میں یہ نہیں ہے کہ میں طلاق دیدوں گا، ادھر فتویٰ بھی آچکا ہے، کہ طلاق ہو چکی، زید کے والد کا یہ کہنا کہ زید نے طلاق دیدی ہے، میں سوچ رہا ہوں کہ زید کی بیوی کا نکاح زید کے بھائی سے کردوں الخ اس سب کے بعد زید کا طلاق سے انکار کرنا شرعاً معتبر نہیں، اس کو لازم ہے کہ مطلقہ بیوی کا جہیز واپس کر دے، بیوی عدت…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو