دھمکی کے طور پر خط کے ذریعہ اعلان طلاق
سوال
زید نے اپنے خسر کو خط میں یہ الفاظ لکھے میرا یہ خط اعلانِ طلاق ہے، یا پھر میں اس خط کے ذریعہ اعلان طلاق کرتا ہوں، ۱۰ فروری تک میری بیوی میرے گھر پہنچ جانی چاہئے، نہیں تو طلاق دے دی جائے گی؟ کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو گئی۔
جواب
اس خط کے ان الفاظ سے کوئی طلاق نہیں ہوگی، کیونکہ اس میں طلاق نہیں دی بلکہ آئندہ طلاق دینے کی دھمکی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔