الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اقرار نامہ کی خلاف ورزی کرنے پر طلاق

سوال

زید کا عقد مسنونہ مومنہ خاتون سے ہوا، عرصہ دراز تک دونوں میں نباہ ہوتا رہا، کچھ دنوں کے بعد دونوں میں اختلاف ہوا اور اس کے بعد پنچایت ہوئی اور مندرجہ ذیل تحریر لکھی گئی ہے کہ اس مرتبہ لڑکی اس طور پر بھیجی جا رہی ہے کہ لڑکی کو کوئی تکلیف نہ ہو اور صحیح طور پر نباہ کرو، اگر پھر حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہوئی تو ثبوت شرعی ملنے کے بعد یہی تحریر جو اقرار نامہ کی صورت میں ہے طلاق سمجھی جائے گی، ایسی صورت میں لڑکے نے صرف انگوٹھا لگایا تھا، منہ سے کچھ نہ کہا اور لڑکی رخصت کرا کر لے گیا، اب دوبارہ لڑکی کے والدین اپنے گھر…

جواب

اگر شوہر نے تحریر مذکورہ سن کر سمجھ کر اپنی خوشی سے بغیر جبر واکراہ کے انگوٹھا لگایا ہے تو یہ تحریر معتبر تحریری طلاق ہے، اور پھر اگر اس نے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے جس کا شرعی ثبوت موجود ہے، تو اس تحریر کی رو سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے عدت تین ماہواری گزرنے سے پہلے حق رجعت حاصل ہے، بعد ختم عدت بغیر تجدید نکاح رکھنے کا حق نہیں ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو