الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق بذریعہ خطوط مع فتاوی دهلی ودیو بند

سوال

زید نے اپنے خسر کے نام ایک خط لکھا جسکی عبارت حسب ذیل ہے بعد ماوجب آنکہ میرا افلاس اس کی اجازت نہیں دیتا کہ میں اہلیہ کو لے کر رہ سکوں، میری فطرت ہے کہ میں اکثر وبیشتر دوسروں کی پریشانی اور الجھنوں کو اپنے اوپر اوڑھ لیتا ہوں، چہ جائے کہ اپنے اس لائق صد ملامت اور ناکارہ وجود کے لئے دوسروں کو عذاب میں مبتلا کروں خصوصاً اس ہستی کو جو مجھے اس دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ عزیز ہے، لہذا آج بروز جمعرات ۲۳ ر اپریل کو میری طرف سے طلاق ہے، آپ اس کی شادی کسی اچھی جگہ کر دیں، جہاں وہ بقیہ زندگی سکون سے بسر کر سکے۔

جواب

(۱) وقوع طلاق کیلئے صراحت بیوی کا ذکر یا اس کا نام ہونا ضروری نہیں، اضافت معنو یہ جس سے یہ معلوم ہو جائے کہ بیوی کو طلاق دے رہا ہے وہ کافی ہے، اور یہ چیز اس تحریر میں صاف موجود ہے اس لئے طلاق واقع ہو گئی رہی یہ بات کہ کتنی طلاق ہوئیں، ایک طلاق تو بلاشبہ واقع ہوگئی، لیکن لفظ طلاق میں نیت تین کی کی جاسکتی ہے، اس لئے محتمل تین کو ہے، اگر نیت تین کی نہیں کی ہے، تو ایک طلاق رجعی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو