استفتاء متعلقه استفتاء بالا
سوال
زید نے اپنے خسر کو خط لکھا جس کی عبارت حسب ذیل ہے۔ ”میرا افلاس اس کی اجازت نہیں دیتا کہ میں اہلیہ کو لے کر رہ سکوں لہذا آج بروز جمعرات ۲۳ را پریل کو میری طرف سے طلاق ہے، آپ اس کی شادی کسی اچھی جگہ کر دیں جہاں وہ بقیہ زندگی سکون سے بسر کر سکے، اتنا ضرور عرض کروں گا، کہ آپ آئندہ ہونے والے داماد سے یہ شرط کر لیں۔
جواب
زید کے اس خط سے زوجہ پر ایک طلاق بائن کا حکم ہوگا، نہ تین طلاقوں یا طلاق رجعی کا۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی مهر دار الافتاء مدرسہ امینیہ دہلی اگر زید کو اپنی تحریر کا اقرار ہے، یا اس پر شرعی شہادت موجود ہے، تو صورت مسئولہ میں ایک طلاق بائن واقع ہوگئی لفظ ار کا موجب صریح ہونے کی وجہ سے طلاق رجعی ہے، لیکن مابعد کے الفاظ کنایہ نے اس کو بائن بنادیا گو ان سے مستقلا وقوع طلاق…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔