تحریری طلاق اور لعنت اور مہر
سوال
زید نے ہندہ کو پانچ روپیہ کے سرکاری اسٹامپ پر طلاق نامہ لکھ کر بذریعہ ڈاک خانہ روانہ کر دیا جب کہ ہندہ طلاق لینے پر راضی نہ تھی، ہندہ کی شخصیت پر لعنت کرتے ہوئے طلاق مغلظہ دیدی، ہندہ مجبور ہوگئی، کیا لعنت کرنا کسی پر جائز ہے، جبکہ وہ اسکا مستحق نہ ہو، اگر جائز نہ ہو تو کہنے والے پر کیا حکم عائد ہوگا، سرکاری اسٹامپ پر طلاق نامہ لکھ کر دینے سے مہر میں شرعی تلافی ہو سکتی ہے؟ خلاصہ تحریر کریں۔
جواب
اگر زید نے طلاق مغلظہ لکھ کر بھیجی ہے، اور وہ اس تحریر کا مقر بھی ہے، تو شرعاً طلاق مغلظہ واقع ہو گئی ہے اس پر جو لعنت لکھی ہے، وہ کسی طرح بھی ہندہ پر نہیں پڑی، بلکہ ہندہ اگر اسکی مستحق نہیں تو وہ لعنت لوٹ کر زید ہی پر پڑی اور مہر میں اس طلاق کی وجہ سے ہرگز کمی نہ آئیگی، بلکہ مہر پختہ ہو جائیگا اگر زوجہ معاف کر دیگی تو معاف ہوگا ورنہ زید کے ذمہ باقی رہیگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔