تحریر سے بلا اقرار وشہادت طلاق نہیں ہوتی
سوال
یہ ہے کہ مسمی محمد عمر کی شادی عبد الستار کی شکیلہ سے ہوئی تھی، مسماۃ شکیلہ محمد عمر کے یہاں رہتی رہی، ایک مرتبہ باپ کے گھر آئی تو عبد الستار نے بالکل روک لیا، اور یہ بات اڑادی کہ محمد عمر نے طلاق کا پرچہ روانہ کر دیا ہے، پنچایت ہوئی سب کو بلایا، مگر محمد عمر حاضر ہوا لیکن عبد الستار حاضر نہیں ہوا محمد عمر نے کہا کہ میں نے کوئی پرچہ طلاق کا نہیں روانہ کیا، ایسی صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ جب کہ پرچہ سامنے ہی نہیں لایا گیا۔ فقط
جواب
جب تک شکیلہ کے شوہر محمد عمر کو اپنی تحریر کا اقرار نہ ہو نہ اس پر شرعی شہادت موجود ہو تو عبد الستار کی اس بے بنیاد بات سے طلاق واقع نہیں ہوگی، نکاح بدستور قائم رہے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔