طلاق بالكتابت
سوال
ایک شخص کا نکاح ہوتا ہے رخصتی نہیں ہوئی، کچھ عرصہ گذرنے کے بعد وہ شخص اپنی منکوحہ کو آزاد کر دیتا ہے، جس کو ایک سال کے قریب ہوتا ہے، جب کہ لڑکی کے ورثاء اس کی شادی دوسری جگہ کرنے کو تیار ہیں، تو وہ شخص کہتا ہے کہ مجھ سے زبر دستی آزاد کرایا ہے، حالاں کہ طلاق نامہ با قاعدہ لکھا ہوا ہے اور محرر کے رجسٹر پر باقاعدہ نشانی انگوٹھہ اور دستخط ہیں۔ اب یہ فرمائیے کہ وہ طلاق ہوئی یا نہیں۔ نوٹ: اصلی طلاقنامہ ہمراہ بھی ہے ٹکٹ ایک آنہ کا برائے جواب ارسال ہے۔
جواب
جو الفاظ طلاق نامہ میں لکھے ہیں، اگر ان کو زبان سے بھی ادا کیا ہے، تو طلاق بہر صورت واقع ہوگئی، خواہ خوشی سے کہے ہوں خواہ زبر دستی کہلائے گئے ہوں اور اگر زبان سے ادا نہیں کئے بلکہ صرف لکھ کر دیتے ہیں، یا خود لکھ کر بھی نہیں دیئے بلکہ دوسرے کے لکھے ہوئے طلاق نامہ پر دستخط کئے ہیں، اور یہ معلوم تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر خوشی سے یعنی بغیر کسی کے جبر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔