طلاق بالكتابة
سوال
زید نے اپنے بھانجے خالد سے کہا کہ میری بھانجی ہندہ کا نکاح عمر اور بکر کے قبیلوں میں سے کسی قبیلہ میں تیری زبردستی اور جبر سے ہو تو تین طلاق پڑیں گی اور اس مضمون کی ایک تحریر بھی تم کو لکھنی پڑیگی اس پر خالد نے کہا کہ میں ایسی تحریر لکھ دوں گا، اسکے بعد زید نے ایک تحریر کسی شخص سے اس مضمون کی لکھوائی کہ (میں اپنی بہن کا نکاح زبردستی سے یا خوشی سے عمرو اور بکر کے قبیلوں میں کروں، تب بھی میری بیوی کو تین طلاق ہوں گی)
جواب
(۲،۱) اگر خالد نے مضمون تحریر پر اطلاع پا کر دستخط کئے ہیں اور اس کا اقرار بھی کرتا ہے، تب تو یہ تحریر شرعاً معتبر ہے، یعنی وقوع شرط کے بعد طلاق ہو جائیگی: رجل استكتب من رجل اخر الى امرأته كتاباً بطلاقها وقرأه على الزوج فاخذه وطواه وختم وكتب في عنوانه وبعث به الى إمرأته فأتاها الكتاب واقر الزوج انه كتابه فان الطلاق يقع عليها. عالمگیری ص: ۳۹۸، ج: ۲.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔