مجنون کی حالت افاقہ میں دی ہوئی طلاق
سوال
ایک محقق عالم باعمل شخص جنات کے اثر کے سبب سے مجنون ہو گیا تھا، باوجود یکہ اس کی مادری زبان بنگلہ ہے، وہ جنون کی حالت میں عربی فارسی بنگلہ اردو انگریزی میں بات چیت کرتا تھا، چونکہ وہ لوگوں کو زدوکوب کرتا تھا، اسلئے اسکو زنجیروں میں جکڑا گیا، ایک دن اسنے اپنی بیوی زوجہ جہاں آراء کو عربی زبان میں یوں طلاق دی طَلَّقْتُ جھاں ارا الف تطليقة افاقہ کے بعد جب اسکی زوجہ اسکو کھانا کھلانے کیلئے آئی تو وہ بولا کہ میں نے تجھے طلاق دیدی تھی، اس لئے تو مجھ پر حرام ہو گئی لہذا میرے سامنے نہ آیا کر، پھر وہ سخت جنون میں مبتلا ہو…
جواب
جب وہ خود عالم ہے اپنی حالت اور مسئلہ سے خوب واقف ہے، تو اسکے مقابلہ میں اس کی بیوی کی بات کچھ وزن نہیں رکھتی: فَانَّ المرء يوخذ باقرارہ عورت کو چاہئے کہ اپنے شوہر کی بات کو معتبر مانے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔