الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مختل الدماغ کی طلاق اور تحریر طلاق بیوی کے پاس نہ پہنچنے کا حکم

سوال

(۱) زید کا نکاح بارہ برس ہوئے ایک ہزار روپے میں ہوا تھا۔ (۲) زید کی بیوی اور اس کے والدین سے زید کا اور زید کے والدین کا باہمی تنازعہ شروع ہو گیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زید کی بیوی کو اپنے خاوند زید کے علاوہ اپنے والدین کے یہاں بھی اکثر رہنا پڑا۔ (۳) نکاح سے چھ سال بعد زید دل ودماغ اور معدہ کی سخت بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ (۴) نکاح کے آٹھ سال کے بعد جب کہ زید کی بیوی اپنے والدین کے یہاں تھی زید نے اس کو اپنے پاس بلانا چاہا مگر وہ نہیں آئی۔ (۵)

جواب

اگر دل ودماغ کی تکلیف کی وجہ سے حواس باختہ اور مدہوش تھا اور اس کو اپنے اقوال وافعال کا علم نہیں، یا اس سے بلا اختیار اقوال وافعال صادر ہوتے ہیں اور اکثر مختل تھے، اور ایسی حالت میں اسنے طلاق تحریر کی اور جب زبانی طلاق دی ہے اسوقت بھی ایسی ہی حالت تھی تب تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اور اگر ایسی حالت نہیں تھی، بلکہ حواس درست تھے اور اپنے علم واختیار سے طلاق لکھی ہے تو اول…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو