مختل الحواس کی طلاق
سوال
عائشہ کی شادی خالد کے ساتھ ایسے وقت میں کی گئی کہ خالد کے متعلق بالکل علم نہ تھا، کہ ذہنی ودماغی اعتبار سے اس کا کردار کیا ہے، مگر بعد عقد اور دن گوناگوں معلومات فراہم ہوتے گئے، پتہ چلا کہ خالد اپنے گھر بار اور گاؤں چھوڑ کر خانہ بدوشوں جیسی زندگی گزار نے لگا، پاگلوں کی طرح میدان کو اپنا وطن اور ہر صحرا کو اپنا نشیمن تصور کرنے لگا، مہینوں کے بعد کبھی گھر کا تصور کر لیتا تھا، اور گھر آکر کچھ دن رہ کر پھر اپنی سابقہ روایات پر آجاتا تھا، ایک روز عائشہ کے والد کے ایک عزیز خالد سے راہ میں ملے تو پوچھا کہ بتاؤ کب تک ایسی…
جواب
ان حالات کے باوجود اگر خالد طلاق کا مقصد سمجھتا تھا اور اس نے لوگوں کے سمجھانے سے بغیر جبر واکراہ کے طلاق تحریر کی ہے، تو طلاق مغلظہ واقع ہوگئی۔ اب نہ رجعت کا حق باقی رہا، نہ حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح درست ہوسکتا ہے، حلالہ یہ ہے کہ بعد عدت عائشہ کا نکاح دوسرے شخص سے کیا جائے، وہ ہمبستری کر کے اگر طلاق دیدے یا مر جائے، تو اس کی عدت پوری ہونے پر خالد سے دوبارہ نکاح ہو سکے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔