الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بخار کی بے ہوشی میں طلاق

سوال

زید نے اپنی بیوی کو امام جامع مسجد اور چند مستورات کے رو برو تین دفعہ کہہ کر طلاق دیدی اور بیوی کو گھر سے نکال دیا دریافت کرنے پر طلاق کی وجہ بخار کی بے ہوشی کا عذر بیان کیا حالانکہ غلط ہے، بیوی کا تایا موجود ہے، اس نے بے علمی کی وجہ سے معاملہ کو اہمیت نہیں دی، اور کچھ عرصہ لڑکی کو اپنے یہاں رکھ کر زید کے رشتہ داروں کی خواہش پر زید کے یہاں رخصت کر دیا، لہذا حسب ذیل سوالات ہیں۔ (۱) واقعہ مذکورہ میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ عورت کو بادل نا خواستہ زید کے گھر میں بحیثیت زوجہ رکھنا کیسا ہے؟

جواب

اگر ایسی بیہوشی تھی کہ عقل ٹھکانے نہیں تھی، اور اپنے نفع ونقصان میں تمیز نہیں کر سکتا تھا، اور اس سے اس وقت جتنے کام ہوئے وہ بھی سب ایسے ہی خلاف عقل صادر ہوئے، اور اپنے ہوش وحواس رکھتے ہوئے اس نے طلاق نہیں دی، تو شرعاً طلاق واقع نہیں ہوئی، اور اگر اتنی بے ہوشی اور ایسی حالت نہ تھی، تو تین دفعہ طلاق دینے سے مغلظہ ہوگئی۔ اب بغیر حلالہ کے رکھنا حرام ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو