بے ہوشی کی حالت میں طلاق
سوال
زید کا کہنا ہے کہ اسکے پاس ایک پری آتی ہے اور بے ہوش کر کے کہتی ہے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو، چنانچہ اسکے مجبور کرنے پر ایک رات میں نے اپنی بیوی کو کہہ دیا کہ ایک دو تین میں نے تم کو طلاق دیدیا تم جاؤ اب میں تم کو نہیں رکھوں گا، اب افاقہ کے بعد میں اپنے اس قول پر سخت نادم ہوں اور ایسا کرنے کا مجھ کو بے حد افسوس ہے، میری خواہش قطعی نہیں ہے کہ میری بیوی مجھ سے جدا ہو، لیکن مجھے یہ بات اچھی طرح یاد ہے کہ مذکورہ باتیں میں نے اس پری کی موجودگی میں کہی ہیں، کیا صورت مذکورہ میں زید کی بیوی مطلقہ ہوگئی؟
جواب
دو چیزیں الگ الگ ہیں ایک بیہوشی دوسری اکراہ، بے ہوشی میں جو طلاق دی جائے وہ واقع نہیں ہوتی، حالت اکراہ کی طلاق واقع ہو جاتی ہے، پس اگر بقائے ہوش کی حالت میں اس کے مجبور کرنے سے بیوی کو اس طرح کہا ہے، کہ ایک دو تین میں نے تم کو طلاق دیدیا تم جاؤ اب میں تم کو نہیں رکھوں گا، تو اس کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہوگئی، کیونکہ ایک دو تین کا لفظ آمادگی اور تیاری وپختگی کیلئے کہا جاتا ہے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔