شراب اور دردسر کی حالت میں طلاق
سوال
زید کے سر میں تھوڑا تھوڑا درد تھا اور اسی حالت میں اس نے تاڑی یا شراب پی لی، جس کی وجہ سے سر میں درد یہاں تک پہنچا کہ مدہوش ہو گیا اور اسی حالت میں اس نے اپنی زوجہ کو طلاق دیدیا، ایسی صورت میں طلاق ہوگی یا نہیں؟
جواب
اگر شراب کی وجہ سے مدہوش نہیں ہوا، بلکہ دردسر کی وجہ سے مدہوش ہو کر طلاق دی ہے تو واقع نہیں ہوئی۔ لو شرب فصدع وزال عقله بالصداع نقول انه لا يقع طلاقه. (هداية ج:۱،ص:۳۳۹) اور اگر شراب یا تاڑی سے بے ہوش اور مست ہو کر طلاق دی ہے تو وہ واقع ہو گئی: وطلاق السكران واقع اذا سكر من الخمر او النبيذ وهو مذهب اصحابنا رحمة الله عليه كذا في المحيط الى ان قال ومن سكر من البنج يقع طلاقه ويحد…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔