مجذوب کی طلاق
سوال
زید کی شادی ہندہ سے ہوگئی، کچھ زمانہ گزرنے کے بعد زید کی مجذوبانہ حالت ہوگئی، علاج کرانے کے باوجود بھی اچھا نہ ہو سکا، مجذوبانہ حالت دیکھ کر ہندہ کے والدین نے زید سے طلاق لے لی، طلاق دیتے وقت زید کے صرف ہونٹ ہلے لیکن آواز نہیں نکلی، نہ معلوم اس نے کیا کہا، زمانہ عدت گزرنے کے بعد ہندہ کی شادی اس کے والدین نے دوسری جگہ کر دی اب زید اچھا ہو گیا، اور یہ کہتا ہے میں نے کوئی طلاق نہیں دی، دریافت طلب یہ ہے کہ ہندہ زید کی منکوحہ ہے، یا عقد ثانی کی؟ ہندہ کو زید کے گھر بھیجیں یا دوسرے شوہر کے؟
جواب
اگر زید کے ہوش وحواس درست نہیں تھے اور اسی حالت میں اس سے طلاق کیلئے کہا گیا اور اس کے جواب میں اس کے ہونٹ ہلے اور طلاق کا لفظ کسی نے اس سے نہیں سنا، اور وہ کہتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی تو شرعاً طلاق واقع نہیں ہوئی اور دوسری جگہ عقد درست نہیں، زوج ثانی سے متارکت کرادی جائے وہ کہہ دے کہ میں نے تعلق زوجیت ختم کر دیا، اس کے بعد عدت تین حیض ختم ہونے پر زوج اول کے پاس آجائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔