الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق مجنون

سوال

ایک شخص مسمی بیتموس شادی کے سات آٹھ دن بعد مجنون ہوا کہ نیک وبد یگانہ وبیگانہ کی تمیز نہ تھی، دوا دارو سے پانچ مہینہ کے اندر خاصہ اچھا ہو گیا، ایک سال کے بعد بیوی کے پاس گیا، خویش واقرباء میں کسی دعوت میں گیا اور ناگوار ہو کر چلا آیا، اور ایک دن بعد نماز مغرب مسجد کے سامنے دو آدمی معتبر کی موجودگی میں اول کا نام منیر الدین اور دوسرے کا عبدالمنان یہ کہا کہ میری بیوی کو ایک دو تین طلاق ہے، تم دونوں اور مسجد گواہ رہو ان دونوں کی زجر وتوبیخ کے بعد بھی وہ اپنے قول پر قائم رہا دوسرے گواہ نے ذرا دور جا کر کہا بھائی تو نے…

جواب

عبارات بالا سے معلوم ہوا کہ مجنون کی طلاق واقع نہیں ہوا کرتی، اور جنون ایسی صفت ہے، جس کی وجہ سے قوت ممیز مختل ہو جاتی ہے، اور انسان اچھی بری باتوں میں تمیز نہیں کر سکتا، اور نفع ونقصان کو نہیں سمجھ سکتا، عبارت سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ مسٹمی ہیتموس کی حالت طلاق کے وقت. ایسی بھی جس سے اسے مجنون کہا جاسکے لہذا طلاق مغلظہ واقع ہوئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو