طلاق مجنون
سوال
زید نے اپنی بیوی سے ایک ہی مجلس میں کہا کہ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، زید حسب رائے وتحقيق احد الطبيبين والعادلين والحاذقين مالیخولیا میں اور عند الثانی مانیا میں مبتلا ہے، اور مالیخولیا پر جنون کا اطلاق عند ارباب الفن شائع وذائع ہے، رہا مانیا وہ تو جنون برجی کا دوسرا نام ہے زید کہتا ہے کہ تطلیق کے وقت بنا برظن غالب اس کی مخصوص دماغی حالت تھی، اور علی سبیل التنزل مشکوک تو تھی ہی تو اس صورت میں طلاق پڑی کہ نہیں؟ مالیخولیا کی تحقیق احتیاطاً کتب طبیہ سے درج ذیل ہے۔
جواب
حالت جنون میں اگر کوئی شخص طلاق دیدے تو وہ شرعاً واقع نہیں ہوتی: ولا يقع طلاق المولى على امرأة عبده والمجنون والمعتوه والمبرسم والمغمى عليه والمدهوش. تنویر ص: ۶۵۷. اگر جنون کی حالت میں طلاق نہیں دی بلکہ تندرستی کی حالت میں طلاق دی ہے تو وہ واقع ہو کر مغلظہ ہوگئی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔